غزل
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
یہ غزل عشق میں مکمل خود سپردگی اور بے بسی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عاشق کو محبوب کی خاطر روایتی عقائد اور حدود سے بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ہجر کے اس جاں گسل درد کو بیان کرتی ہے جس میں صبر کرنا پہلے آسان معلوم ہوتا تھا مگر عمل کی گھڑی میں اس کی تلخ حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
इश्क़-ए-बुत में कुफ़्र का मुझ को अदब करना पड़ा
जो बरहमन ने कहा आख़िर वो सब करना पड़ा
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا
2
सब्र करना फ़ुर्क़त-ए-महबूब में समझे थे सहल
खुल गया अपनी समझ का हाल जब करना पड़ा
صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل
کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا
3
तजरबे ने हुब्ब-ए-दुनिया से सिखाया एहतिराज़
पहले कहते थे फ़क़त मुँह से और अब करना पड़ा
تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز
پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا
4
शैख़ की मज्लिस में भी मुफ़्लिस की कुछ पुर्सिश नहीं
दीन की ख़ातिर से दुनिया को तलब करना पड़ा
شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں
دین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا
5
क्या कहूँ बे-ख़ुद हुआ मैं किस निगाह-ए-मस्त से
अक़्ल को भी मेरी हस्ती का अदब करना पड़ा
کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سے
عقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا
6
इक़तिज़ा फ़ितरत का रुकता है कहीं ऐ हम-नशीं
शैख़-साहिब को भी आख़िर कार-ए-शब करना पड़ा
اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیں
شیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا
7
आलम-ए-हस्ती को था मद्द-ए-नज़र कत्मान-ए-राज़
एक शय को दूसरी शय का सबब करना पड़ा
عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان راز
ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا
8
शेर ग़ैरों के उसे मुतलक़ नहीं आए पसंद
हज़रत-ए-'अकबर' को बिल-आख़िर तलब करना पड़ा
شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسند
حضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
