غزل
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
یہ غزل عشق کے شوخ اور والہانہ انداز کو بیان کرتی ہے، جس میں عاشق محبوب سے ایک بوسے کے بدلے اپنا ایمان نچھاور کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ اس میں معشوق کے ناز و نخرے، بے نیازی اور احسان جتانے کی اداؤں کی نہایت دلکش اور پرلطف عکاسی کی گئی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
इक बोसा दीजिए मिरा ईमान लीजिए
गो बुत हैं आप बहर-ए-ख़ुदा मान लीजिए
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
گو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئے
2
दिल ले के कहते हैं तिरी ख़ातिर से ले लिया
उल्टा मुझी पे रखते हैं एहसान लीजिए
دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیا
الٹا مجھی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے
3
ग़ैरों को अपने हाथ से हँस कर खिला दिया
मुझ से कबीदा हो के कहा पान लीजिए
غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا
مجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجئے
4
मरना क़ुबूल है मगर उल्फ़त नहीं क़ुबूल
दिल तो न दूँगा आप को मैं जान लीजिए
مرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبول
دل تو نہ دوں گا آپ کو میں جان لیجئے
5
हाज़िर हुआ करूँगा मैं अक्सर हुज़ूर में
आज अच्छी तरह से मुझे पहचान लीजिए
حاضر ہوا کروں گا میں اکثر حضور میں
آج اچھی طرح سے مجھے پہچان لیجئے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
