“A moth I am indeed, but let the candle burn, let night arrive; I stand prepared to give my life, if only there were reason clear.”
میں پروانہ تو ہوں مگر شمع تو جلے اور رات تو ہو؛ میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے حاضر ہوں، بس کوئی بات یا سبب تو ہو۔
اس شعر میں شاعر شمع اور پروانے کے روایتی تعلق میں اپنے وقار اور سلیقۂ محبت کو نمایاں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنی جان وارنے سے نہیں کتراتا، مگر کم از کم محبت کی شمع تو روشن ہو، قربت کی رات تو آئے اور کوئی ایسی بات تو بنے جس پر فدا ہوا جا سکے۔ یعنی سچا عاشق قربانی دینے کا پورا جذبہ رکھتا ہے، مگر وہ اپنی جاں نثاری کو بے معنی اور رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
