غزل
ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
یہ غزل رات کی عنبر فشاں فضا اور چاندنی کے حسن میں ڈوب کر عشق، سپردگی اور روحانی عقیدت کے جذبات بیان کرتی ہے۔ اس میں جہاں محبّت پر نثار ہونے کی تمنا ہے، وہیں سجدۂ نیاز کو پیشانی کی بلندی اور روئے زمین کا سچا فخر قرار دیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
हवा-ए-शब भी है अम्बर-अफ़्शाँ उरूज भी है मह-ए-मुबीं का
निसार होने की दो इजाज़त महल नहीं है नहीं नहीं का
ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
نثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا
2
अगर हो ज़ौक़-ए-सुजूद पैदा सितारा हो औज पर जबीं का
निशान-ए-सज्दा ज़मीन पर हो तो फ़ख़्र है वो रुख़-ए-ज़मीं का
اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کا
نشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا
3
सबा भी उस गुल के पास आई तो मेरे दिल को हुआ ये खटका
कोई शगूफ़ा न ये खिलाए पयाम लाई न हो कहीं का
صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکا
کوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا
4
न मेहर ओ मह पर मिरी नज़र है न लाला-ओ-गुल की कुछ ख़बर है
फ़रोग़-ए-दिल के लिए है काफ़ी तसव्वुर उस रू-ए-आतिशीं का
نہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہے
فروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا
5
न इल्म-ए-फ़ितरत में तुम हो माहिर न ज़ौक़-ए-ताअत है तुम से ज़ाहिर
ये बे-उसूली बहुत बुरी है तुम्हें न रक्खेगी ये कहीं का
نہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہر
یہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
