غزل

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 10 shers· radif: के लिए

یہ غزل انسانی زندگی کی فانی نوعیت اور دنیا کی بے ثباتی پر گہرے تفکر کا اظہار کرتی ہے، جہاں ہر لمحہ انسان کو اس کے آخری سفر کی یاد دلاتا ہے۔ ایک رنجیدہ اور فلسفیانہ انداز میں شاعر نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ یہ ناپائیدار دنیا دل لگانے کے قابل نہیں بلکہ صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हर क़दम कहता है तू आया है जाने के लिए मंज़िल-ए-हस्ती नहीं है दिल लगाने के लिए
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے
2
क्या मुझे ख़ुश आए ये हैरत-सरा-ए-बे-सबात होश उड़ने के लिए है जान जाने के लिए
کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے
3
दिल ने देखा है बिसात-ए-क़ुव्वत-ए-इदराक को क्या बढ़े इस बज़्म में आँखें उठाने के लिए
دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے
4
ख़ूब उम्मीदें बंधीं लेकिन हुईं हिरमाँ नसीब बदलियाँ उट्ठीं मगर बिजली गिराने के लिए
خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے
5
साँस की तरकीब पर मिट्टी को प्यार आ ही गया ख़ुद हुई क़ैद उस को सीने से लगाने के लिए
سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا خود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے
6
जब कहा मैं ने भुला दो ग़ैर को हँस कर कहा याद फिर मुझ को दिलाना भूल जाने के लिए
جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے
7
दीदा-बाज़ी वो कहाँ आँखें रहा करती हैं बंद जान ही बाक़ी नहीं अब दिल लगाने के लिए
دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے
8
मुझ को ख़ुश आई है मस्ती शैख़ जी को फ़रबही मैं हूँ पीने के लिए और वो हैं खाने के लिए
مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی میں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے
9
अल्लाह अल्लाह के सिवा आख़िर रहा कुछ भी न याद जो किया था याद सब था भूल जाने के लिए
اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے
10
सुर कहाँ के साज़ कैसा कैसी बज़्म-ए-सामईन जोश-ए-दिल काफ़ी है 'अकबर' तान उड़ाने के लिए
سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے | Sukhan AI