غزل

حال دل میں سنا نہیں سکتا

حال دل میں سنا نہیں سکتا
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 5 shers· radif: नहीं सकता

یہ غزل قلبی جذبات کے بیان سے قاصر ہونے اور عشق کی ناقابلِ فہم نزاکت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ الفاظ دل کی حقیقی کیفیت کا احاطہ نہیں کر سکتے اور محبت کی لطافت عقل کے بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हाल-ए-दिल मैं सुना नहीं सकता लफ़्ज़ मा'ना को पा नहीं सकता
حال دل میں سنا نہیں سکتا لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
2
इश्क़ नाज़ुक-मिज़ाज है बेहद अक़्ल का बोझ उठा नहीं सकता
عشق نازک مزاج ہے بے حد عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
3
होश आरिफ़ की है यही पहचान कि ख़ुदी में समा नहीं सकता
ہوش عارف کی ہے یہی پہچان کہ خودی میں سما نہیں سکتا
4
पोंछ सकता है हम-नशीं आँसू दाग़-ए-दिल को मिटा नहीं सकता
پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو داغ دل کو مٹا نہیں سکتا
5
मुझ को हैरत है उस की क़ुदरत पर अलम उस को घटा नहीं सकता
مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر الم اس کو گھٹا نہیں سکتا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

حال دل میں سنا نہیں سکتا | Sukhan AI