غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

“No coquettish glance or subtle sign is left unshown; when eyes meet with theirs, what wonders are not known!”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ایسا کون سا ناز و انداز یا اشارہ ہے جو نہیں ہوتا؛ جب ان سے آنکھ ملتی ہے تو کیا کچھ نہیں ہو جاتا۔

تشریح

یہ شعر نظروں کے ملنے اور اس میں چھپی شوخی و نزاکت کا بڑا دلکش نقشہ کھینچتا ہے۔ جب محبوب سے آنکھ ملتی ہے، تو وہ محض دیکھنا نہیں ہوتا بلکہ پلک جھپکتے ہی غمزے، ناز اور ہزاروں خاموش اشارے بیک وقت جاگ اٹھتے ہیں۔ شاعر کا اندازِ بیاں بتاتا ہے کہ نگاہوں کے اس ملاپ میں الفاظ کے بغیر ہی محبت کے تمام فسانے پل بھر میں ادا ہو جاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.