“Let me embrace and shower you with love on the day of Eid; Come near to me, O my rose-cheeked beloved, on the day of Eid.”
اے میرے گلاب جیسے چہرے والے محبوب، عید کے دن ادھر تو آؤ تاکہ ہم تمہیں گلے لگائیں اور پیار کریں۔
عید کا دن محبت بانٹنے اور باہم گلے مل کر دوریاں مٹانے کا موقع ہوتا ہے، اور عاشق اسی خوبصورت روایت کا بہانہ بنا کر اپنے محبوب کو قریب بلا رہا ہے۔ محبوب کو ’گلعذار‘ یعنی پھول جیسے نازک چہرے والا کہنا اس التجا میں بے پناہ اپنائیت اور نزاکت بھر دیتا ہے۔ یہ شعر عید کے پرمسرت ماحول اور عشق کے شوخ و دلکش جذبات کی بہت پیاری عکاسی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
