دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

“I dwell within this world, yet seek no worldly prize; I have walked through the bazaar, but not as one who buys.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

میں اس دنیا میں موجود ضرور ہوں لیکن اس دنیا کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں زندگی کے بازار سے گزرا تو ہوں مگر خریدار بن کر نہیں آیا۔

تشریح

اکبر الہ آبادی کا یہ لازوال شعر دنیا کو ایک پُررونق بازار کے استعارے میں پیش کرتا ہے، جہاں ہر سو کشش، لالچ اور نمائش کا سماں ہے۔ شاعر اس میلے کے بیچوں بیچ قدم رکھتے ہیں مگر خود کو کسی بھی چیز کا خریدار یا محتاج نہیں بننے دیتے۔ یہ ایک باوقار درویشانہ بے نیازی کا اظہار ہے، جو بتاتی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی انسان کس طرح اپنے باطن کو مادی ہوس سے پاک اور آزاد رکھ سکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.