دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا بت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

“I found none who could comfort this heart of mine; worshippers of idols I met aplenty, but no true servant of the Divine.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

مجھے ایسا کوئی انسان نہ ملا جس سے میرا دل بہل سکے؛ بتوں کے پجاری تو بہت ملے مگر خدا کا سچا بندہ کوئی نہ ملا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے دل کی اداسی اور تنہائی کا درد بیان کر رہا ہے، جسے سنبھالنے اور تسلی دینے والا کوئی مخلص ساتھی نہ مل سکا۔ دنیا میں اسے ظاہری خوبصورتی، مادیت اور دنیاوی بتوں کے پجاری تو جا بجا ملے، مگر کوئی سچا، دردمند اور خدا ترس انسان نہ مل سکا جس سے روح کا ناطہ جڑتا۔ یہ شعر اس سچائی کو چھوتا ہے کہ ہجوم سے بھری اس دنیا میں سچی بندگی اور باطنی پاکیزگی والے لوگ کس قدر نایاب ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.