دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے

“Let the heart be ruined, let faith suffer whatever fate; this work of love, come what may, must now be carried out.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

چاہے دل برباد ہو جائے یا دین و ایمان پر جو بھی اثر پڑے، اب عشق کا یہ کام تو بہرحال کرنا ہی پڑے گا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کی وہ دیوانہ وار ضد اور مکمل سپردگی جھلکتی ہے جہاں انسان ہر مصلحت اور خوف سے بےنیاز ہو جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے اس راستے میں دل برباد ہو جائے یا دین و دنیا کا کتنا ہی نقصان ہو، اب عاشقی کی راہ اختیار کر لی ہے تو اسے ہر حال میں نبھانا ہی ہے۔ یہاں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ایسی ناگزیر منزل بن کر ابھرتی ہے جس کے آگے کفر و ایماں کے روایتی پیمانے بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →