Sukhan AI
غزل

چشمے کی خواب سے بیداری

چشمے کی خواب سے بیداری

یہ غزل ایک چشمے کی نیند سے بیداری کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے، جو آزادی اور مسلسل ترقی کی گہری خواہش کی علامت ہے۔ یہ رکاوٹوں کو توڑ کر آگے بڑھنے، دنیا کو فتح کرنے اور بغیر رکے زندگی کو اپنانے کے ایک بے مثال جذبے کی بات کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
আজি এসেছে ভোর, কোথায় নিদ্রা, কোথায় স্বপন, পাথর সরায়ে উঠব আমি, করব ভুবন-জয়॥
آج فجر آ گئی ہے، اب نیند اور خواب کہاں؟ میں پتھر ہٹا کر اٹھوں گا اور دنیا کو فتح کروں گا۔
3
সুদূর থেকে ডাক আসে মোর, যাই যাই যাই, এ বাঁধ ভেঙে ছুটে চলব আজ, আর থামব নাই॥
دور سے مجھے ایک پکار آتی ہے، میں جاتا ہوں، جاتا ہوں، جاتا ہوں۔ آج میں اس بندھن کو توڑ کر آگے بڑھتا رہوں گا اور اب رکوں گا نہیں۔
4
পাগলা হাওয়ার বাদল-দিনে, পাগল আমার মন, চলতে চলতে চলব আমি, নাই থামার ক্ষণ॥
پاگل ہوا اور بارش کے دن، میرا من بے چین ہے۔ میں چلتا رہوں گا، رکنے کا کوئی لمحہ نہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

چشمے کی خواب سے بیداری | Sukhan AI