Sukhan AI
غزل

سوزناک سُر میں بجے

سوزناک سُر میں بجے

ایک غمگین بانسری کی دھن ایک گہرے، انجانے درد اور بھولی ہوئی یادوں کو بیدار کرتی ہے۔ نغمے سے ایک عجیب سی شناسائی محسوس ہوتی ہے، جو پہچان اور فراموشی کے درمیان جھولتی ہے، اور حیران ہوتا ہے کہ یہ دل میں اتنا درد کیوں پیدا کرتی ہے اور کھوئے ہوئے ماضی کی یاد دلاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
বাজে করুণ সুরে আনমনা বাঁশরি, কাহার লাগি কাঁদে ওই— জানি না তো॥
بے خود بانسری کرون سُر میں بج رہی ہے۔ وہ کس کے لیے رو رہی ہے، یہ مجھے معلوم نہیں۔
2
মনে হয় চিনি তারে, মনে হয় না চিনি, মনে পড়ে কোনো কথা, মনে পড়ে না॥
مجھے لگتا ہے کہ میں انہیں جانتا ہوں، اور مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ میں انہیں نہیں جانتا۔ کچھ باتیں یاد آتی ہیں، مگر کچھ یاد نہیں آتیں۔
3
তবু কেন এ সুর এলে বুকে লাগে ব্যথা, কোন হারানো দিনের কথা জাগে গো॥
پھر بھی یہ دھن میرے دل میں درد کیوں جگاتی ہے، اور کون سے کھوئے ہوئے دنوں کی یادیں تازہ کرتی ہے؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

سوزناک سُر میں بجے | Sukhan AI