“Love cannot be cultivated, nor can it be bought in the market. For the king and the people, whoever desires it, may take it by giving their head.”
پیار نہ بڑی اُپجے، پیار نہ ہاٹ بکائے۔ راجا-پرجا جوہی رُچیں، شیش دےئی لے جائے॥ اس کا مطلب ہے کہ پیار نہ تو اگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بازار میں فروخت ہو سکتا ہے۔ جو بھی راجہ یا پرجا کو پیار چاہیے، وہ اپنا سر دے کر لے جا سکتا ہے۔
جب کبیر شاعر کہتے ہیں کہ محبت نہ بڑی اُپجائی، تو ان کا اشارہ اس کے روحانی مقام کی طرف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سچی محبت کوئی چیز نہیں ہے جسے بازار میں خریدا یا کھیت میں اگایا جا سکے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو دل سے نکلتی ہے۔ وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اگر بادشاہ ہو یا عام آدمی، جسے یہ محبت چاہیے، اسے اپنے سر (سر) سے بھی زیادہ قیمتی چیز دے کر ہی حاصل کرنی پڑے گی۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
