Sukhan AI
तन बोहत मन काग है , लक्ष योजन उड़ जाय। कबहु के धर्म अगम दयी , कबहुं गगन समाय॥ 98॥

The body is much, the mind is restless, the goal is far away. Sometimes the dharma is unreachable, sometimes it dwells in the sky.

کبیر
معنی

جسم بہت ہے، من کاکا ہے، لَخش یوجن اڑ جائے۔ کبھی کے دھرم अगم دئی، کبھیں گگن سما جائے۔

تشریح

جب کबीर کہتے ہیں کہ تن بہت من کاگ ہے، تو وہ انسان کی جسمانی حدود اور ذہن کی بے چینی بیان کرتے ہیں۔ آپ کا ذہن ایک کبوتر کی طرح ہے جو مسلسل پرواز کرتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے زندگی کا مقصد بہت دور لگتا ہے۔ کبیر کا کہنا ہے کہ دین بھی اتنا ہی پراسرار ہے؛ کبھی وہ ہماری پہنچ سے دور لگتا ہے، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صرف آسمان میں مقیم ہے۔ یہ اشعار انسان کی اندرونی گھبراہٹ اور روحانی سچائی کی تلاش کے جذبے کو خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

← Prev94 / 5