सबते लघुताई भली , लघुता ते सब होय। जौसे दूज का चन्द्रमा , शीश नवे सब कोय॥ 87॥
“Subtle in nature, good is the small; from smallness comes everything. Like the moon of another, all heads are bare.”
— کبیر
معنی
سبتہ لغوتائی بھلی، لغوتہ سے سب ہوی۔ جو سے دوج کا چاندما، شیش نَوے سب کوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ سب سے چھوٹی اور نفیس چیز اچھی ہوتی ہے؛ हर चीज़ छोटेपन से उत्पन्न होती है। जैसे दूसरे का चाँद होता है, वैसे ही सभी सिर नंगे होते हैं।
تشریح
Kabir یہاں ایک بہت گہرا سبق دے رہے ہیں، کہ اصل خوبی سادگی اور عاجزی میں پنہاں ہے، کیونکہ ہر بڑی چیز کا آغاز کسی چھوٹے سے نقطے سے ہوتا ہے۔ دوسرا مصرعہ ایک تیز تشبیہ ہے؛ یہ بتاتا ہے کہ ہر ظاہری دعویٰ، جیسے کسی اور کا چاند، آخر کار بے بنیاد اور ننگا ہوتا ہے۔ اس شعر کے ذریعے، یہ شاعر ہمیں غرور چھوڑ کر عاجز بننے کی تلقین کر رہے ہیں، اور یہ کہ اندرونی حقیقت بیرونی شان و شوکت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
← Prev84 / 10
