“The world is the earthen vessel, the keeper of the gem of knowledge. Kabir has gone again; the world is faded.”
علم کے نکتہ کو سنوارنے والا یہ جہاں ہے۔ شاعر کبیر پھر چلے گئے، اور یہ جہاں مدھم ہو گیا۔
یہ شعر ایک گہرا فلسفیانہ خیال پیش کرتا ہے۔ کबीर کہتے ہیں کہ دنیا کو علم کے نخلے کو سمیٹنے والے مٹی کے برتن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مگر جب خود کबीर (جو علم کی علامت ہیں) اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، تو یہ سارا وجود مدھم پڑ جاتا ہے۔ یہ رخصت صرف ایک جسمانی جدائی نہیں، بلکہ علم کے منبع کی عارضی عدم دستیابی کا احساس ہے، جو زندگی کی فانیت اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
