ज्ञान रतन का जतनकर माटी का संसार। आय कबीर फिर गया , फीका है संसार॥ 239॥
“The world is the earthen vessel, the keeper of the gem of knowledge. Kabir has gone again; the world is faded.”
— کبیر
معنی
علم کے نکتہ کو سنوارنے والا یہ جہاں ہے۔ شاعر کبیر پھر چلے گئے، اور یہ جہاں مدھم ہو گیا۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرا فلسفیانہ خیال پیش کرتا ہے۔ کबीर کہتے ہیں کہ دنیا کو علم کے نخلے کو سمیٹنے والے مٹی کے برتن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مگر جب خود کबीर (جو علم کی علامت ہیں) اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، تو یہ سارا وجود مدھم پڑ جاتا ہے۔ یہ رخصت صرف ایک جسمانی جدائی نہیں، بلکہ علم کے منبع کی عارضی عدم دستیابی کا احساس ہے، جو زندگی کی فانیت اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev39 / 10
