غزل
پھر اس انداز سے بہار آئی
پھر اس انداز سے بہار آئی
یہ غزل بہار کی آمد کا جشن مناتی ہے، جس کی شان اتنی نرالی ہے کہ سورج اور چاند بھی اس کے تماشائی بن جاتے ہیں۔ یہ بیان کرتی ہے کہ کیسے زمین سر تا سر سج جاتی ہے اور آسمانِ مینائی کی سطح کے مانند حسین ہو جاتی ہے۔ ہر طرف ہریالی اس قدر کثرت سے ہے کہ اسے کہیں جگہ نہ ملی تو وہ پانی کی سطح پر کائی بن گئی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
फिर इस अंदाज़ से बहार आई
कि हुए मेहर-ओ-मह तमाशाई
بہار ایک بار پھر ایسے انداز سے آئی ہے کہ سورج اور چاند بھی تماشائی بن گئے ہیں۔
2
देखो ऐ साकिनान-ए-ख़ित्ता-ए-ख़ाक
इस को कहते हैं आलम-आराई
دیکھو، اے زمین کے باشندو، اسی کو دنیا کی آرائش کہتے ہیں۔
3
कि ज़मीं हो गई है सर-ता-सर
रू-कश-ए-सतह-ए-चर्ख़-ए-मीनाई
کہ پوری زمین نیلے آسمان کی سطح کی رقیب بن گئی ہے۔
4
सब्ज़ा को जब कहीं जगह न मिली
बन गया रू-ए-आब पर काई
جب سبزے کو کہیں جگہ نہ ملی، تو وہ پانی کی سطح پر کائی بن گیا۔
5
सब्ज़ा ओ गुल के देखने के लिए
चश्म-ए-नर्गिस को दी है बीनाई
سبزے اور پھولوں کو دیکھنے کے لیے، نرگس کی آنکھ کو بینائی عطا کی گئی ہے۔
6
है हवा में शराब की तासीर
बादा-नोशी है बादा-पैमाई
ہوا میں ہی شراب کا نشہ موجود ہے۔ اس لیے، شراب پینا محض اُسے ناپنے جیسا ہے۔
7
क्यूँ न दुनिया को हो ख़ुशी 'ग़ालिब'
शाह-ए-दीं-दार ने शिफ़ा पाई
غالب، دنیا کیوں نہ خوش ہو، کیونکہ دیندار بادشاہ نے شفا پائی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
