غزل
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
یہ غزل محبوب کی توجہ کے لیے عاشق کی گہری تڑپ کو بیان کرتی ہے، جہاں وہ انھیں چھیڑتے ہوئے ان کی خاموشی توڑنے کی خواہش کرتا ہے۔ اس میں محبوب کی انوکھی موجودگی کی شدید آرزو ہے، چاہے اس کے ساتھ کوئی بھی مصیبت کیوں نہ آئے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मैं उन्हें छेड़ूँ और कुछ न कहें
चल निकलते जो मय पिए होते
میں انہیں چھیڑتا ہوں اور وہ کچھ نہیں کہتے۔ وہ چلے جاتے اگر انہوں نے شراب پی ہوتی۔
2
क़हर हो या बला हो जो कुछ हो
काश के तुम मिरे लिए होते
چاہے یہ قہر ہو یا کوئی بلا ہو، جو کچھ بھی ہو، کاش کہ تم صرف میرے لیے ہوتے۔
3
मेरी क़िस्मत में ग़म गर इतना था
दिल भी या-रब कई दिए होते
اگر میری قسمت میں اتنا غم تھا، تو اے رب، مجھے کئی دل دیے ہوتے۔
4
आ ही जाता वो राह पर 'ग़ालिब'
कोई दिन और भी जिए होते
غالب، وہ راہ پر آ ہی جاتا اگر ہم کچھ اور دن زندہ رہتے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
