غزل
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی امید بر نہیں آتی
یہ غزل گہری مایوسی اور ناامیدی کا اظہار کرتی ہے، جہاں کوئی امید بر نہیں آتی اور نہ ہی کوئی صورت نظر آتی ہے۔ شاعر اپنی بے خواب راتوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، موت کی مقررہ تاریخ اور نیند کی عدم دستیابی کے تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے شدید دکھ کو بیان کرتا ہے۔ یہ غزل زندگی میں سکون اور حل کی تلاش میں ایک گہرے کرب اور بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
मौत का एक दिन मुअ'य्यन है
नींद क्यूँ रात भर नहीं आती
موت کا ایک دن مقرر ہے۔ تو پھر ساری رات نیند کیوں نہیں آتی؟
3
आगे आती थी हाल-ए-दिल पे हँसी
अब किसी बात पर नहीं आती
پہلے مجھے اپنے دل کے حال پر ہنسی آتی تھی، لیکن اب مجھے کسی بھی بات پر ہنسی نہیں آتی ہے۔
4
जानता हूँ सवाब-ए-ताअत-ओ-ज़ोहद
पर तबीअत इधर नहीं आती
مجھے عبادت اور پرہیزگاری کے ثواب کا علم ہے، لیکن میری طبیعت اس طرف مائل نہیں ہوتی۔
5
है कुछ ऐसी ही बात जो चुप हूँ
वर्ना क्या बात कर नहीं आती
میں اس لیے چپ ہوں کہ کوئی ایسی ہی بات ہے، ورنہ ایسا نہیں کہ مجھے بات کرنی نہیں آتی۔
6
क्यूँ न चीख़ूँ कि याद करते हैं
मेरी आवाज़ गर नहीं आती
میں کیوں نہ چیخوں کہ مجھے یاد کیا جاتا ہے۔ اگر میری آواز نہیں آتی۔
7
दाग़-ए-दिल गर नज़र नहीं आता
बू भी ऐ चारा-गर नहीं आती
اگر دل کا داغ نظر نہیں آتا، تو اے چارہ گر، اس کی بو بھی تم تک نہیں آتی۔
8
हम वहाँ हैं जहाँ से हम को भी
कुछ हमारी ख़बर नहीं आती
ہم ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں سے ہمیں اپنی کوئی خبر بھی نہیں ملتی۔
9
मरते हैं आरज़ू में मरने की
मौत आती है पर नहीं आती
ہم مرنے کی آرزو میں مرتے رہتے ہیں۔ موت آتی ہے مگر مکمل طور پر آتی نہیں۔
10
का'बा किस मुँह से जाओगे 'ग़ालिब'
शर्म तुम को मगर नहीं आती
غالب، تم کعبہ کس منہ سے جاؤ گے؟ حالانکہ تمہیں تو بالکل شرم نہیں آتی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
