Sukhan AI
غزل

خاموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

خاموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
مرزا غالب· Ghazal· 4 shers· radif: है

یہ غزل بیان کرتی ہے کہ کیسے گہرے جذبات اور اظہار خاموشی، تنہائی اور اندرونی اضطراب سے ابھرتے ہیں۔ یہ خوبصورتی سے دکھاتی ہے کہ کیسے پوشیدہ احساسات، جیسے کوئی تماشا، شبنم یا یہاں تک کہ ایک پری، دل کی حدود یا محبت کے درد سے نازک انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़मोशियों में तमाशा अदा निकलती है निगाह दिल से तिरे सुर्मा-सा निकलती है
خاموشیوں میں ایک تماشا ادا ظاہر ہوتی ہے، تمہارے دل کی نگاہ سے یہ سُرمے کی طرح نکلتی ہے۔
2
फ़शार-ए-तंगी-ए-ख़ल्वत से बनती है शबनम सबा जो ग़ुंचे के पर्दे में जा निकलती है
تنہائی کی تنگی کے دباؤ سے شبنم بنتی ہے، جب صبا غنچے کے پردے میں سے نکلتی ہے۔
3
पूछ सीना-ए-आशिक़ से आब-ए-तेग़-ए-निगाह कि ज़ख्म-ए-रौज़न-ए-दर से हवा निकलती है
نہ پوچھ عاشق کے سینے سے تیز نگاہ کی ضرب کے بارے میں، کیونکہ دروازے کے روزن کے زخم سے صرف ہوا ہی نکلتی ہے۔
4
ब-रंग-ए-शीशा हूँ यक-गोश-ए-दिल-ए-ख़ाली कभी परी मिरी ख़ल्वत में निकलती है
میں شیشے کی مانند، دل کا ایک خالی گوشہ ہوں۔ کبھی ایک پری میری خلوت میں آ نکلتی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.