غزل
خاموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
خاموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
یہ غزل بیان کرتی ہے کہ کیسے گہرے جذبات اور اظہار خاموشی، تنہائی اور اندرونی اضطراب سے ابھرتے ہیں۔ یہ خوبصورتی سے دکھاتی ہے کہ کیسے پوشیدہ احساسات، جیسے کوئی تماشا، شبنم یا یہاں تک کہ ایک پری، دل کی حدود یا محبت کے درد سے نازک انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ख़मोशियों में तमाशा अदा निकलती है
निगाह दिल से तिरे सुर्मा-सा निकलती है
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
نگاہ دل سے تری سرمہ سا نکلتی ہے
خاموشیوں میں ایک تماشا ادا ظاہر ہوتی ہے، تمہارے دل کی نگاہ سے یہ سُرمے کی طرح نکلتی ہے۔
2
फ़शार-ए-तंगी-ए-ख़ल्वत से बनती है शबनम
सबा जो ग़ुंचे के पर्दे में जा निकलती है
فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم
صبا جو غنچہ کے پردہ میں جا نکلتی ہے
تنہائی کی تنگی کے دباؤ سے شبنم بنتی ہے، جب صبا غنچے کے پردے میں سے نکلتی ہے۔
3
न पूछ सीना-ए-आशिक़ से आब-ए-तेग़-ए-निगाह
कि ज़ख्म-ए-रौज़न-ए-दर से हवा निकलती है
نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
نہ پوچھ عاشق کے سینے سے تیز نگاہ کی ضرب کے بارے میں، کیونکہ دروازے کے روزن کے زخم سے صرف ہوا ہی نکلتی ہے۔
4
ब-रंग-ए-शीशा हूँ यक-गोश-ए-दिल-ए-ख़ाली
कभी परी मिरी ख़ल्वत में आ निकलती है
بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی
کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
میں شیشے کی مانند، دل کا ایک خالی گوشہ ہوں۔ کبھی ایک پری میری خلوت میں آ نکلتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
