Sukhan AI
غزل

عشق تاثیر سے نومید نہیں

عشق تاثیر سے نومید نہیں
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: नहीं

یہ غزل عشق کی اٹل فطرت کو بیان کرتی ہے، جس کا گہرا اثر کبھی مایوسی نہیں لاتا۔ یہ دنیاوی سلطنتوں کی عارضی شان کو اُس ہر سو پھیلی نورِ الٰہی سے موازنہ کرتی ہے، جو کائنات کا بنیادی جوہر ہے۔ آخر میں، شاعر محبوب کے راز کی حرمت پر زور دیتا ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ اس کی حفاظت جان سے بھی زیادہ اہم ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इश्क़ तासीर से नौमेद नहीं जाँ-सिपारी शजर-ए-बेद नहीं
عشق اپنے اثر سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ جان قربان کرنا کوئی کمزور یا آسانی سے جھکنے والے بید کے درخت جیسا نہیں ہے۔
2
सल्तनत दस्त-ब-दस्त आई है जाम-ए-मय ख़ातम-ए-जमशेद नहीं
سلطنت مسلسل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہی ہے۔ شراب کا یہ پیالہ جمشید کی انگوٹھی کی طرح مستقل اور جادوئی طاقت نہیں رکھتا۔
3
है तजल्ली तिरी सामान-ए-वजूद ज़र्रा बे-परतव-ए-ख़ुर्शेद नहीं
تیری ہی تجلی تمام وجود کا سامان ہے۔ کوئی ذرہ سورج کی شعاع کے بغیر نہیں ہوتا۔
4
राज़-ए-माशूक़ न रुस्वा हो जाए वर्ना मर जाने में कुछ भेद नहीं
معشوق کے راز کو فاش یا رسوا نہ کیا جائے۔ ورنہ، مرنے میں کوئی مشکل یا راز نہیں ہے۔
5
गर्दिश-ए-रंग-ए-तरब से डर है ग़म-ए-महरूमी-ए-जावेद नहीं
مجھے خوشی کے بدلتے رنگوں کا خوف ہے، نہ کہ دائمی محرومی کے غم کا۔
6
कहते हैं जीते हैं उम्मेद पे लोग हम को जीने की भी उम्मेद नहीं
لوگ کہتے ہیں کہ وہ امید پر جیتے ہیں، لیکن مجھے تو جینے کی بھی امید نہیں ہے۔
7
मय-कशी को न समझ बे-हासिल बादा 'ग़ालिब' अरक़-ए-बेद नहीं
مے کشی کو بے حاصل مت سمجھو؛ غالب کے لیے بادہ عرقِ بید نہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

عشق تاثیر سے نومید نہیں | Sukhan AI