غزل
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
یہ غزل گہرے دکھ کے لیے ابن مریم جیسی معجزاتی شفایابی کی شدید آرزو کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر ایک ظالم محبوب کے سامنے خود کو بے بس پاتا ہے، جس کی ادا تیر کی طرح دل میں اترتی ہے لیکن دل سنگدل ہے۔ یہ اس جبر کے ماحول پر بھی افسوس کا اظہار کرتی ہے جہاں بولنے پر پابندی ہے اور عاشق کو خاموشی سے محبوب کی مرضی تسلیم کرنی پڑتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इब्न-ए-मरियम हुआ करे कोई
मेरे दुख की दवा करे कोई
ابنِ مریم (حضرت عیسیٰ) چاہے کوئی بھی ہو، لیکن میرے درد کا علاج کوئی تو کرے۔
2
शरअ' ओ आईन पर मदार सही
ऐसे क़ातिल का क्या करे कोई
شریعت اور قانون پر انحصار درست ہے، مگر ایسے قاتل کا کوئی کیا کرے؟
3
चाल जैसे कड़ी कमान का तीर
दिल में ऐसे के जा करे कोई
اُس کی چال ایسی ہے جیسے کڑی کمان سے نکلا ہوا تیر، جو سیدھا دل میں جا کر پیوست ہو جائے۔
4
बात पर वाँ ज़बान कटती है
वो कहें और सुना करे कोई
اس جگہ پر ایک بات کہنے سے زبان کاٹ دی جاتی ہے۔ اس لیے وہ ہی بولیں اور کوئی صرف سنتا رہے۔
5
बक रहा हूँ जुनूँ में क्या क्या कुछ
कुछ न समझे ख़ुदा करे कोई
میں اپنے جنوں میں کیا کچھ بک رہا ہوں۔ خدا کرے کہ کوئی بھی اسے نہ سمجھے۔
6
न सुनो गर बुरा कहे कोई
न कहो गर बुरा करे कोई
اگر کوئی برا کہے تو مت سنو، اور اگر کوئی برا کرے تو مت کہو۔
7
रोक लो गर ग़लत चले कोई
बख़्श दो गर ख़ता करे कोई
اگر کوئی غلط راستے پر چلے تو اسے روک لو، اور اگر کوئی خطا کرے تو اسے معاف کر دو۔
8
कौन है जो नहीं है हाजत-मंद
किस की हाजत रवा करे कोई
کون ہے جو حاجت مند نہیں؟ بھلا کوئی کس کی حاجت روائی کرے گا؟
9
क्या किया ख़िज़्र ने सिकंदर से
अब किसे रहनुमा करे कोई
خضر نے سکندر کے لیے کیا کیا؟ اب بھلا کوئی کسے اپنا رہنما بنائے؟
10
जब तवक़्क़ो' ही उठ गई 'ग़ालिब'
क्यूँ किसी का गिला करे कोई
جب اُمید ہی ختم ہو گئی ہے، غالب، تو کوئی کسی سے شکایت کیوں کرے گا؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
