غزل
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
یہ غزل گہرے اور بے حد غم کا اظہار کرتی ہے، اور دنیاوی مشاغل کے مقصد پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں محبوبِ حقیقی کی ہر شے میں موجودگی کو بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کی بے مثال انفرادیت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ غزل فانی زندگی کے فریب سے ہوشیار رہنے کا پیغام بھی دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
फ़रियाद की कोई लय नहीं है
नाला पाबंद-ए-नय नहीं है
میری فریاد کی کوئی مخصوص لے یا دھن نہیں ہے، اور میرا نالہ کسی بانسری کی دھن کا پابند نہیں ہے۔
2
क्यूँ बोते हैं बाग़बान तोंबे
गर बाग़ गदा-ए-मय नहीं है
باغبان تومبے کیوں لگاتے ہیں، اگر باغ شراب کا گدا نہیں ہے؟
3
हर-चंद हर एक शय में तू है
पर तुझ सी कोई शय नहीं है
اگرچہ تو ہر شے میں موجود ہے، لیکن تیرے جیسی کوئی شے نہیں ہے۔
4
हाँ खाइयो मत फ़रेब-ए-हस्ती
हर-चंद कहें कि है नहीं है
ہاں، وجود کے فریب میں مت آنا، اگرچہ لوگ کہتے رہیں کہ 'یہ ہے' اور 'یہ نہیں ہے'۔
5
शादी से गुज़र कि ग़म न होवे
उरदी जो न हो तो दय नहीं है
شادِی سے گزر جاؤ تاکہ غم نہ ہو۔ اگر کوئی زمینی بنیاد نہ ہو تو رحم نہیں ہے۔
6
क्यूँ रद्द-ए-क़दह करे है ज़ाहिद
मय है ये मगस की क़य नहीं है
اے زاہد، تم شراب کے پیالے کو کیوں رد کرتے ہو؟ یہ شراب ہے، مکھی کی قے نہیں ہے۔
7
हस्ती है न कुछ 'अदम है 'ग़ालिब'
आख़िर तू क्या है ऐ नहीं है
غالب، نہ تو ہستی ہے اور نہ ہی کچھ عدم ہے۔ آخر تو کیا ہے، اے 'جو نہیں ہے'؟
8
अंजाम-ए-शुमार-ए-ग़म न पूछो
ये मसरफ़-ए-ता-ब-कय नहीं है
غموں کی گنتی کا انجام مت پوچھو۔ یہ ایسا کام ہے جس کا کوئی 'کب تک' (انت) نہیں ہے۔
9
जिस दिल में कि ता-ब-कय समा जाए
वाँ 'इज़्ज़त-ए-तख़्त-ए-कय नहीं है
جس دل میں شاہ کَے کی شان سما جائے، اُس دل میں شاہ کَے کے تخت کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
