“The blind met the blind in darkest night, like millet mingled with sesame's light.”
اندھے کو اندھیرے میں دوسرا اندھا ملا، بالکل ویسے ہی جیسے تل کے دانوں میں باجرا مل گیا ہو۔
یہ دوہا الجھن اور لاعلمی کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔ جب "اندھے اندھیرے میں اندھے سے ملتے ہیں"، تو اس کا مطلب ہے کہ جن لوگوں میں سمجھ یا علم کی کمی ہوتی ہے، وہ ایک ساتھ آتے ہیں، اور چونکہ ان میں سے کوئی بھی صاف طور پر دیکھ نہیں پاتا، وہ صرف اپنی مشترکہ الجھن کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ دوسری خوبصورت سطر، "جیسے تل میں باجرہ مل جائے"، اس بات کو مزید واضح کرتی ہے: کوئی خالص اور قیمتی چیز (تل) کسی ادنیٰ چیز (باجرہ) سے مل کر آلودہ یا کم ہو جاتی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب نادان ذہن اکٹھے ہوتے ہیں تو حکمت یا سچائی کیسے کھو سکتی ہے۔ یہ ایک نرم یاد دہانی ہے کہ حقیقی رہنمائی انہی سے ملتی ہے جن کے پاس واقعی بصیرت ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
